153

محفوظ خوراک، صحت مند زندگی کی ضمانت

ڈاکٹر جاوید اقبال

ہم سب جانتے ہیں کہ خوراک انسانی زندگی کا ایک لازمی جزو ہے، لیکن کیا آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر یہی خوراک غیر محفوظ ہو تو صحت کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔دنیا بھر میں لاکھوں افراد ہر سال غیر محفوظ خوراک کی وجہ سے مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لئے سائنس دانوں نے متعدد سائنسی طریقے اور نظام وضع کیے ہیں، جو خوراک کو محفوظ بنانے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔

اسی تناظر میں فوڈ سیفٹی سائنس ان ایکشن ایک اہم موضوع ہے، جس سے متعلق شعور اُجاگر کرنا وقت کی ضرورت ہے۔فوڈ سیفٹی کیا ہے؟ تو فوڈ سیفٹی سے مراد خوراک کی تیاری، پراسیسنگ، ذخیرہ اندوزی، تقسیم اور استعمال کے ہر مرحلے میں اس بات کو یقینی بنانا کہ خوراک صحت کے لئے محفوظ ہو۔

اس میں وہ تمام اقدامات شامل ہیں، جو خوراک کو بیکٹیریا، وائرس، کیمیکلز اور دیگر مضر صحت اجزاء سے پاک رکھنے کے لئے کیے جاتے ہیں۔

ان مراحل میں سائنس کا کردار کیا ہے؟ تو سائنس خوراک کی حفاظت کو یقینی بنانے میں مختلف طریقوں سے کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں۔
جدید لیبارٹری ٹیسٹنگ:
جدید لیبارٹریز میں خوراک کے نمونوں کا تجزیہ کیا جاتا ہے، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ کسی بیماری پیدا کرنے والے جراثیم یا کیمیکل سے آلودہ تو نہیں۔

فوڈ پروسیسنگ ٹیکنالوجی:

فوڈ پروسیسنگ ٹیکنالوجی سائنس نے خوراک کو محفوظ بنانے کے لئے متعدد طریقے ایجاد کیے ہیں۔جیسے Pasteurization، الٹرا وائلٹ (UV) شعاؤں کا استعمال اور ہائی پریشر پروسیسنگ (High Pressure Processing)۔

بائیو ٹیکنالوجی:

بائیو ٹیکنالوجی کے ذریعے ایسی خوراک تیار کی جا رہی ہے، جو نہ صرف محفوظ، بلکہ غذائیت سے بھرپور بھی ہو۔

جی ایم فوڈز یعنی Genetically Modified Foods بھی اسی کا حصہ ہیں۔

ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ:

محققین نئی ٹیکنالوجیز اور جدید طریقے متعارف کروا رہے ہیں، جیسے کہ بائیو سینسرز جو فوراً آلودہ خوراک کی نشان دہی کر سکتے ہیں۔

ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹمز:

ڈیجیٹل سسٹمز کے ذریعے خوراک کی پوری سپلائی چین (یعنی کھیت سے لے کر پلیٹ تک) کو مانیٹر کیا جاتا ہے، تاکہ کسی بھی خرابی یا آلودگی کا فوری پتا چلایا جا سکے۔

خوراک کو محفوظ بنانے میں صرف سائنس دانوں اور اداروں کا کردار نہیں، بلکہ ہر فرد کو اس بارے میں آگاہی ہونی چاہیے۔جیسے ہاتھ دھو کر کھانا تیار کرنا اور کھانا۔خوراک کو مناسب درجہ حرارت پر پکانا۔خوراک کو مناسب طریقے سے فریز یا ذخیرہ کرنا اور ختم المیعاد اشیاء کے استعمال سے گریز وغیرہ۔انسانی جسم کی تعمیر میں وہی غذا بطور ایندھن استعمال ہوتی ہے، جو کہ روزمرہ استعمال کی جاتی ہے۔

اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کسی عمارت کی تعمیر میں تعمیراتی سامان کا انتخاب۔اگر تعمیراتی سامان ناقص ہو گا، تو ظاہر سی بات ہے عمارت بھی پختہ نہیں ہو گی اور اگر تعمیراتی سامان معیاری ہو گا، تو یقینی طور پر عمارت بھی مضبوط اور پائیدار ہو گی۔بالکل اسی طرح اگر روزمرہ استعمال کی جانے والی غذائیں متوازن و معیاری نہیں ہوں گی، تو یقینی طور پر انسانی جسم کمزور ہوتا چلا جائے گا۔

اگر متوازن غذا استعمال کریں گے، تو نہ صرف ذہنی و جسمانی صحت عمدہ رہے گی، بلکہ عمومی بیماریوں سے بھی تحفظ حاصل ہو گا۔

یاد رکھیے، اگر ہم غیر معیاری غذائیں استعمال کریں گے یا کسی بھی سبب غذائیت کی کمی واقع ہو جائے گی، تو ہمارا جسم مختلف بیماریوں کی آماج گاہ بھی بن سکتا ہے۔تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ غیر معیاری ناقص غذا کے سبب انسانی جسم اس کے فوائد کے بجائے مضر اثرات کا شکار ہو جاتا ہے۔

ہر فرد کو یہ سوچنا چاہیے کہ وہ روزمرہ استعمال کی جانے والی غذاؤں میں کیا کھا رہا ہے اور اس کے جسم پر کس طرح کے مفید اور مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔اس بات کا بھی علم رکھنا چاہیے کہ ایک حاملہ کو دورانِ حمل کیسی غذا استعمال کرنی چاہیے، جس کے سبب نہ صرف یہ خود صحت مند رہے، بلکہ جنم لینے والا بچہ بھی تندرست و توانا ہو۔یہ بات بھی ہر فرد کے علم میں ہونی چاہیے کہ بالغ افراد کون سی غذائیں کھائیں اور بچوں کو کیسی غذائیں استعمال کروانی چاہئیں۔

خوراک کو محفوظ بنانا صرف حکومت یا اداروں کی نہیں، بلکہ ہر فرد کی ذمے داری ہے۔اگر ہم ان چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھیں تو نہ صرف اپنی صحت محفوظ رکھ سکتے ہیں بلکہ اپنے گھر اور معاشرے کو بھی بیماریوں سے بچا سکتے ہیں۔یاد رکھیں محفوظ خوراک، صحت مند زندگی کی ضمانت ہے۔

کیٹاگری میں : صحت
Views: 153

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں