142

وزیر اعلیٰ اور وزیر صحت خیبر پختونخوا گزارش

سلام محترم وزیر اعلیٰ اور وزیر صحت!
باعرضِ گزارش، موڑہ توجہ معزز بورڈ آف گورنرز KTH کی ساتویں HR میٹنگ کے آئٹم نمبر 09 کی طرف دلائی جاتی ہے، جس میں سول سرونٹس کو محکمۂ صحت واپس بھیجنے (Repatriation) اور ’’اہم‘‘ ملازمین کو KTH میں برقرار رکھنے کا ذکر کیا گیا ہے۔
ایسے فیصلے، جن میں کچھ ’’نام نہاد ضروری‘‘ سول سرونٹس کو رکھا جائے اور باقیوں کو واپس بھیجا جائے، سراسر ناانصافی ہے۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ کئی فیکلٹی ممبرز اور SPRs/TRs جنہیں MTI-KTH نے بھرتی کیا تھا، انہوں نے سول سروس سے استعفیٰ نہیں دیا، بلکہ کچھ نے جعلی استعفیٰ نامے جمع کرائے جو MTI نوکری میں شمولیت کے لیے لازمی شرط تھی۔ مزید یہ کہ چند افراد دوہری مراعات بھی لے رہے ہیں، اور ان میں سے اکثر کا تعلق حکمران جماعت سے ہے۔ ایسی بے ضابطگیاں KTH کی ساکھ کو متاثر کر سکتی ہیں۔
Estacode کے مطابق یہ بجٹ کی منظور شدہ پوسٹیں سول سرونٹس سے ہی پُر کی جانی چاہئیں، اور MTI ایکٹ کے تحت انہیں ختم کرنے یا نئی بھرتیاں کرنے کا اختیار MTI کے پاس نہیں ہونا چاہیے۔
آپ سے گزارش ہے کہ سول سرونٹس کی واپسی کے فیصلے پر نظرِ ثانی فرمائی جائے اور ان MTI ملازمین کے خلاف جامع انکوائری کی جائے جو بیک وقت MTI اور سول سروس کی پوسٹیں یا مراعات لے رہے ہیں۔
والسلام

Views: 142

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں