503

پشاور میں سیکیورٹی ہائی الرٹ: ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے بعد موٹرسائیکل سواروں پر خصوصی کریک ڈاؤن کا آغاز

پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد شہر کی سیکیورٹی صورتحال مزید سخت کر دی گئی ہے۔ حملے میں دہشت گردوں کی جانب سے موٹرسائیکل کے استعمال نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک بار پھر اس خطرے کی طرف توجہ دلائی ہے کہ مختلف کارروائیوں میں عسکریت پسند خصوصی طور پر موٹرسائیکل کو ہی ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ یہ کم لاگت، آسان نقل و حرکت اور بھیڑ میں تیزی سے راستہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی تناظر میں پشاور پولیس نے تمام ضلعی پولیس افسران کو ایک نیا ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس میں موٹرسائیکل سواروں کی مختلف زاویوں سے سخت نگرانی پر زور دیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق بغیر رجسٹریشن کے موٹرسائیکل شہر میں نہ صرف ٹریفک مسائل کا باعث بنتے ہیں بلکہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ان کا استعمال کسی بڑے خطرے کا پیش خیمہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ بغیر نمبر پلیٹ یا جعلی نمبر والی موٹرسائیکلوں کے خلاف فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں تحویل میں لیا جائے۔ شہر کی ناکوں اور چوک پوائنٹس پر پولیس کی چیکنگ مزید سخت کر دی گئی ہے اور اہلکاروں کو ہدایت ہے کہ ایسے کسی بھی موٹرسائیکل سوار کو نظرانداز نہ کیا جائے جو قانونی تقاضے پورے نہ کرتا ہو۔
ہدایات میں یہ بھی شامل ہے کہ موٹرسائیکل پر سفر کرنے والے ایسے افراد جو چادر اوڑھے ہوں یا مشکوک حرکات کرتے نظر آئیں، ان کی لازمی تلاشی لی جائے۔ حالیہ واقعات میں دہشت گردوں کے بھیس بدلنے اور چادر اوڑھ کر بھاری اسلحہ یا بارودی مواد لے جانے کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس کے بعد پولیس نے ایسے افراد کی باریک بینی سے چیکنگ کو لازمی قرار دیا ہے۔ اہلکاروں کو واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کسی بھی مشکوک شخص کو بغیر تلاشی کے آگے نہ بڑھنے دیا جائے۔
مزید یہ کہ وہ موٹرسائیکل سوار جو مختلف سواریاں لے کر سفر کرتے ہیں، ان کی بھی مکمل تصدیق کی جائے گی۔ اگر کوئی شخص کسی سیکیورٹی کمپنی یا مستند ادارے سے منسلک نہ ہو تو اس کی شناخت، مقصد اور سفر کی وجہ جانچنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ پولیس کو خصوصی طور پر تاکید کی گئی ہے کہ ڈلیوری بوائز، نجی ملازمین اور ایسے تمام افراد کی نگرانی بڑھائی جائے جو موٹرسائیکل پر مختلف علاقوں میں تیزی سے نقل و حرکت کرتے رہتے ہیں۔
ان اقدامات کے بعد شہر بھر میں سیکیورٹی مزید سخت ہو گئی ہے اور پولیس کی طرف سے شہریوں کو بھی اپیل کی گئی ہے کہ اگر وہ کسی مشکوک حرکت یا شخص کو دیکھیں تو فوراً پولیس ہیلپ لائن پر اطلاع دیں۔ پشاور پولیس کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات عوام کی حفاظت اور دہشت گردی کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ضروری ہیں، تاکہ مستقبل میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو پہلے ہی روکا جا سکے۔

Views: 503

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں