گورنر راج ۔ صوبائی خودمختاری پر حملہ
تحریر : ملک ارشد
مملکتِ پاکستان میں گورنر راج ہمیشہ ایک غیر معمولی اور غیر جمہوری قدم سمجھا جاتا رہا ہے، جس کی آئینی حیثیت اگرچہ موجود ہے مگر اس کا نفاذ سخت شرائط سے مشروط ہے۔ آئینِ پاکستان کے تحت گورنر راج دراصل ایمرجنسی کے نفاذ کے ذریعے ممکن ہوتا ہے، جس کی بنیاد آرٹیکل 232 پر رکھی گئی ہے۔ یہ آرٹیکل صدرِ مملکت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ اگر ملک یا کسی صوبے میں اندرونی انتشار، بدامنی، بدترین امن و امان کی صورتحال یا ریاستی ڈھانچے کے ٹوٹنے کا اندیشہ پیدا ہو جائے اور صوبائی حکومت اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو جائے تو صدر ایمرجنسی نافذ کر کے صوبے کا انتظام گورنر کے سپرد کر سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں آرٹیکل 234 بھی صوبائی ناکامی کی صورت میں مرکز کو مداخلت کی اجازت دیتا ہے، جس کے تحت صوبائی اسمبلی معطل یا غیر مؤثر ہو سکتی ہے۔
گورنر راج نافذ ہونے کے بعد صوبائی وزیرِ اعلیٰ اور کابینہ اپنے اختیارات کھو بیٹھتے ہیں، اور تمام حکومتی و انتظامی اختیار گورنر کو منتقل ہو جاتا ہے، جو وفاقی حکومت کے مشورے سے تمام فیصلے کرتا ہے۔ ماضی میں پاکستان میں متعدد بار یہ اقدام اختیار کیا گیا، جن میں پنجاب میں 1949 سے 1951 تک، پھر 1999 کے فوجی اقدام کے بعد 2002 تک، اور 2009 میں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری کے دور میں پیش آنے والا واقعہ خاص طور پر نمایاں ہیں۔ دیگر صوبوں میں بھی مختلف ادوار میں گورنر راج یا اس سے ملتے جلتے اقدامات کیے جاتے رہے جن کا مقصد وقتی سیاسی بحران یا انتظامی ربڑ کے ٹوٹنے کو وقتی طور پر روکنا تھا، مگر یہ حل کبھی بھی دیرپا ثابت نہ ہوا۔
تاریخ گواہی دیتی ہے کہ گورنر راج نے کبھی بھی کسی صوبے میں سیاسی استحکام نہیں لایا۔ اس اقدام نے ہمیشہ عوامی مینڈیٹ کو ثانوی حیثیت دی، صوبائی خودمختاری کو کمزور کیا، اور جمہوری اداروں پر عدم اعتماد پیدا کیا۔ ہر بار جب گورنر راج ختم ہوا تو صوبہ پہلے سے زیادہ انتشار، سیاسی بے یقینی اور ادارہ جاتی کمزوری کا شکار ہو چکا ہوتا تھا۔ اس نے یہ حقیقت ثابت کی کہ غیر جمہوری “شارٹ کٹ” وقتی علاج تو ہو سکتا ہے مگر مسئلے کا حل کبھی نہیں۔
اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد گورنر راج کے نفاذ کو مزید مشکل بنا دیا گیا ہے۔ اب نہ صرف صدر اور وزیراعظم کی رضا مندی شرط ہے بلکہ متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری لازمی ہے۔ یہی آئینی بندش اس اقدام کو خیبرپختونخوا جیسے صوبے میں تقریباً ناممکن بنا دیتی ہے، جہاں سیاسی اکثریت کسی بھی غیر جمہوری اقدام کو برداشت نہیں کرے گی۔
یہاں سیاسی حقیقت کا ایک اہم پہلو بھی سامنے آتا ہے کہ کیا اس وقت ملک کی کوئی سیاسی جماعت، خصوصاً خیبرپختونخوا میں اپنا گہرا سیاسی وجود رکھنے والی عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف)، قومی وطن پارٹی، یا پیپلزپارٹی، گورنر راج جیسے اقدام کی حمایت کرے گی؟ میرا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں کوئی بھی سیاسی جماعت اس غیر جمہوری اقدام کا ساتھ نہیں دے گی۔ سیاسی جماعتیں جانتی ہیں کہ آج کسی صوبے میں گورنر راج کی حمایت کرنے کا مطلب کل اپنے صوبے کو اسی خطرے کے سامنے لانا ہے۔ یہ پاکستان کی سیاست میں ایسا جال ہے جس میں قدم رکھنے والا خود بھی پھنس جاتا ہے اور جمہوری سیاست بھی۔
اسی طرح یہ تصور بھی غیر حقیقی ہے کہ صوبے کے سینئر سیاسی رہنما ـــ جیسے آفتاب احمد خان شیرپاؤ، امیر حیدر خان ہوتی یا کوئی اور باوقار سیاسی شخصیت ـــ گورنر کی کرسی کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ اس منصب کو قبول کرنا آج کے ماحول میں نہ صرف سیاسی خودکشی کے مترادف ہو گا بلکہ ان کی پوری سیاسی جدوجہد سے متصادم بھی ہوگا۔
موجودہ حالات میں جب پوری قوم، ادارے اور سیاسی جماعتیں یہ سمجھ چکی ہیں کہ جمہوری تسلسل ہی پاکستان کا واحد راستہ ہے، گورنر راج کا نفاذ نہ آئینی طور پر درست قدم ہے، نہ سیاسی طور پر دانشمندانہ۔ یہ بحران کو حل نہیں کرے گا بلکہ مزید گہرا کرے گا۔ ملک کو اس وقت ضرورت آئینی بالادستی، قانون کی عملداری اور سیاسی مکالمے کی ہے، نہ کہ ایسے غیر جمہوری اقدامات کی جو ماضی کے زخموں کو تازہ کر دیتے ہیں.