چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس سید محمد عتیق شاہ نے کرک میں جوڈیشل کمپلیکس اور جوڈیشل اکیڈمی کا افتتاح کردیا
کرک ()پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سید محمد عتیق شاہ نے ضلع کرک کے دورے کے دوران نئے تعمیر شدہ جوڈیشل کمپلیکس اور جوڈیشل اکیڈمی کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب ایک پروقار ماحول میں منعقد ہوئی جس میں ضلعی انتظامیہ، عدلیہ اور وکلا برادری کی کئی اہم شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سید یاسر شبیر جبکہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز محمد شیر علی خان یوسفزئی، نصرت ناز، محمد سجاد خان، محمد فیاض اور قیصر خان آفریدی شریک ہوئے۔ سینئر سول ججز میں ایڈمن جج عزیز احمد، آفتاب جاوید، نوید احمد، جبکہ سول ججز میں عبدالماجد آفریدی، اقصیٰ بی بی، اعتزاز حسن، سعید غنی شاہ، محمد لطیف اور عزیز جنید نے شرکت کی۔وکلا برادری کی نمائندگی بار کونسل ممبر احمد فاروق خٹک، صدر بار ایسوسی ایشن اختر نواز، جنرل سیکرٹری وسیم خٹک اور صدر تخت نصرتی بار تعیم خان سمیت متعدد سینئر وکلاء نے کی۔انتظامیہ کی جانب سے کمشنر کوہاٹ ڈویژن، ڈی آئی جی کوہاٹ ڈویژن، ڈپٹی کمشنر کرک اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بھی تقریب میں خصوصی شریک تھے چیف جسٹس کا نے خطاب کرتے ہوئے کہا “انصاف فراہم کرنا ہی ہمارا اصل فرض ہےافتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ کرک کا یہ ان کا پہلا دورہ ہے جس میں انہیں نئے جوڈیشل کمپلیکس اور جوڈیشل اکیڈمی کی تکمیل اور افتتاح کا اعزاز حاصل ہوا۔انہوں نے کہا ہمارا بنیادی کام عوام کو انصاف فراہم کرنا ہے۔ ہم روزانہ انصاف دیتے ہیں مگر کبھی کبھی ہمیں انصاف ہوتا نظر نہیں آتا، اس خلا کو پُر کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔چیف جسٹس نے بتایا کہ کرک کے جوڈیشل کمپلیکس کیلئے 2.5 بلین روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی تھی، جس سے جدید سہولیات کے ساتھ اس کمپلیکس کو قائم کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بار ایسوسی ایشن میں شیڈ اور واک وے کی تعمیر کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔کمپلیکس کو جدید بنانے کیلئے سولر سسٹم لگانے کے احکامات بھی دے دیے گئے ہیں۔کوشش ہے کہ کرک میں عدالتی نظام کو مثالی سطح تک پہنچایا جائے۔چیف جسٹس نے ضلع کرک کے تعلیمی پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کرک ایک تعلیم یافتہ ضلع رہا ہے، مگر بدقسمتی سے حالات بدل رہے ہیں۔ ہمیں دوبارہ معیاری تعلیم کی طرف توجہ دینا ہوگی۔انہوں نے ججز اور وکلا کے باہمی تعلق کو سراہتے ہوئے کہا کہ ججز اور وکلا ایک ہی گاڑی کے دو پہیے ہیں۔ دونوں کے باہمی تعاون سے ہی انصاف کا نظام مضبوط ہوتا ہے۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سید یاسر شبیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل کمپلیکس میں18 عدالتیں (کورٹس) فعال ہیں لائبریری کو جدید تقاضوں کے مطابق اپڈیٹ کردیا گیا ہے۔آئندہ وقت میں کمپلیکس کو مزید جدید بنانے کے منصوبے زیر غور ہیں۔ججز اور ملازمین کیلئے جِم، واک ٹریک اور خواتین کیلئے علیحدہ ویٹنگ روم کی ضرورت ہے۔ بجلی کے مسائل کے حل کیلئے کمپلیکس کو سولر سسٹم پر منتقل کرنا ناگزیر ہے اور ساتھ ہی ایکسپریس لائن سے بجلی کی فراہمی بھی ضروری ہے۔تقریب میں بار کونسل ممبر احمد فاروق خٹک اور صدر بار اختر نواز نے چیف جسٹس کے سامنے بار کے مختلف مسائل پیش کیے جنہیں سن کر چیف جسٹس نے ان کے حل کی فوری اور ترجیحی بنیادوں پر یقین دہانی کرائی۔تقریب کی اسٹیج سیکریٹری کے فرائض سینئر سول جج ایڈمن عزیز احمد نے انتہائی خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیے۔ شرکاء نے ان کی محنت اور بہترین انتظامات کو سراہا۔