228

ڈاکٹر عرفان چمکتا ہوا ستارہ

ڈاکٹر عرفان ( بادشاہ سید عرفان) مرحوم (یکم فروری۱۹۴۸—-۳دسمبر2022 )
پاکستان پیپلز پارٹی کا چمکتا ہوا ستارہ ، سابقہ تحصیل صدر ادینزئ و پریس سیکرٹری پاکستان پیپلز پارٹی دیر لوئر ،ایک بہترین مقرر، حاضر دماغ ، اور سمارٹ پرسنلٹی کے حامل تھے ۔
ڈاکٹر عرفان اپنے ولولہ انگیز تقاریر اور شاعرانہ انداز سے جانے جاتے ۔ مدلل اور با محاورہ گفتگو سے محفل کو چار چاند لگاتے ۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسہ ، جلوس، میٹنگز اور ریلیزکے زینت بنے رہے۔
اپنی حاضر دماغی ، شاعرانہ طنز و مزاح اور ٹو دی پوائنٹ
بول سے لوگوں کے دل جیت لیتے تھے ۔
سیاسی مخالفین بھی گفتگو میں سامنا کرنے سے کانپتے تھے ۔
اور ڈاکٹر صاحب انہیں اپنی طرف مائل کرتے تھے ۔
ڈاکٹر عرفان
پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ورکرز میں شمار تھے۔

قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید نے جب پہلی بار دیر کا دورہ کیا تو موجودہ میوزیم چکدرہ کے مقام پر جو کہ پہلے نہیں تھا ۔ یہاں پر ڈاکٹر عرفان نے سٹیج سجایا اور قائد عوام کا استقبال کیا ساتھیوں سمیت جسمیں رشید ایڈوکیٹ دیر ، محمد صادق خان اور دیگر دیرینہ کارکن شامل تھے ۔
وہ اپنے قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو سے والہانہ محبت رکھتے تھے ۔ اور انکے نظریہ رول و کردار پر فدا تھے ۔ ساتھ ہی محمد حنیف خان اور حیات محمد خان شیرپاؤ کے رول و کردار سے بھی متاثر تھے۔

جنرل ضیاء امریت دور میں 10 سال تحصیل ادینزئ کے صدر رہے ، جیلے کاٹی ، اور جلا وطن ہوئے ۔ بعد ازاں
محمد حنیف خان ، ملک مظفر خان ، افتاب احمدخان شیرپاؤ ، نجم الدین خان ، احمد حسن خان ، بخت بیدار خان اور ملک عظمت خان کے سیاسی کیریئر میں انکا نمایاں کردار رھا۔

ڈاکٹر عرفان کی پیدائش 1947 میں ایک غریب گھرانے میں ہوئی ۔
ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں دربار چکدرہ میں حاصل کی ۔ میٹرک تھانہ سکول ملاکنڈ ایجنسی سے کی ، ایف ایس سی فارسٹ کالج مانسہرہ سے کی ۔ میڈیکل فیکلٹی پشاور سے بی ایس سی کی ۔
پشتو اور اردو ادب سے سے لگاؤ تھا ، بچپن سے ہی، یوں وقت کیساتھ خود بھی معروف شاعر بنے ۔ پشتو کے وہ کئی کتابوں ، افسانوں ، سٹیج ڈراموں کے مصنف ہدایتکار بنے رہے ۔ جسمیں ( دامینی گل ، دا عرلبتسانی پشتو ادبی تڑون ، دیوان عرفان ) شامل ہے ۔۔
سٹیج ڈراموں میں مجرم څوک ۔ جبکہ افسانوں میں مالی ، خیال ، ببلی اور حقیقت کافی مشہور ہے ۔
ریڈیو پاکستان کیلئے پروگرام خوند رنگ 10 سال لکھتے رہے ۔

بعد ازاں سیاست میں آنے کے بعد سیاسی شاعری بھی کافی مشہور رہی۔ امریت کیخلاف لکھتے رہے اور اپنے قائد ذولفقار علی بھٹو ، محترمہ بینظیر بھٹو ، حیات شیرپاؤ ، محمدحنیف خان ، کیلئے نظم و اشعار لکھے جو وقت کے ساتھ آج بھی لوگوں کے دلوں میں ہے ۔

ڈاکٹر عرفان نے 45 سال پاکستان پیپلز پارٹی کیلئے اپنے خدمات انجام دییے ، اور پارٹی کیلئے اپنے ، تھن ،من، دھن کی قربانی میں پیش پیش رہے ۔
حقیقی معنوں میں جنونیت کی حد تک مگن ایک حقیقی جیالہ رہا، جنکی تائید پورے ملاکنڈ ڈویژن و صوبہ بھر کے تمام سیاسی قائدین کرتے ہیں ۔

زندگی کے سفر میں ذریعہ معاش کی تگ و دوڑ میں کئی جابز و کاروبار کیئے ۔
جسمیں پاک آرمی ، فارسٹ ڈیپارٹمنٹ (پاکستان،قطر)، ہوٹل منیجر PC راولپنڈی/سعودی عرب ، سٹور منیجر شوگر ملز مردان ، و میڈیکل پریکٹشنر، فیلڈ شامل ہے ۔
کافی عرصہ میڈیکل فیلڈ میں رہے جسکی وجہ سے ڈاکٹر عرفان کے نام سے جانے جاتے ہیں ۔

مختصر یہ کہ
ڈاکٹر عرفان ایک بہترین سماجی ، ادبی اور سیاسی شخصیت کے حامل تھے ۔

وہ قلیل علالت کے بعد دل کا دورہ پڑنے سے 3 دسمبر 2022 کو اس فانی دنیا سے رخصت ہوئے ۔

آج بمورخہ 3 دسمبر 2025 انکی تیسری برسی کے موقع پر انکو خو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔
وہ لوگوں کے دلوں میں آج بھی ذندہ ہے ۔ انکے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ اور تاریخ میں انکا ذکر سنہرے حروف سے کیا جائیگا ۔

آئیں ہم سب ملکر دعا کریں کہ
اللہ تعالیٰ ڈاکٹرعرفان کی مغفرت نصیب کریں ، اللہ تعالیٰ انکی روح کو سکون دیں اور _درجات بلند کریں ۔اور اللہ تعالی انکی خوبیاں انکے جا نشیں،ما جد عرفان ایڈوکیٹ میں پیدا کریں۔
آمین ثم آمین ں
پاکستان پیپلز پارٹی دیر لوئر

Views: 228

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں