132

مردان: زہریلے بیج کھانے سے جاں بحق ہونے والی دو کمسن بچیوں کا المناک واقعہ

مردان: زہریلے بیج کھانے سے جاں بحق ہونے والی دو کمسن بچیوں کا المناک واقعہ

مردان کی تحصیل کاٹلنگ میں پیش آنے والا یہ دلخراش واقعہ نہ صرف علاقے بلکہ پورے صوبے میں غم اور افسوس کی لہر کا باعث بنا ہے۔ کھیل کے دوران انجانے میں زہریلے بیج کھا لینے والی دو کمسن بچیاں—6 سالہ آنابیہ اور 4 سالہ معافارا—بالآخر جان کی بازی ہار گئیں۔ دونوں بچیاں آپس میں کزن اور ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔
ذرائع کے مطابق دونوں بچیاں گھر کے قریب کھیل رہی تھیں کہ انہیں ایسے بیج ملے جن میں انتہائی خطرناک زہر موجود تھا۔ ابتدا میں کسی کو معاملے کی سنگینی کا احساس نہ ہوا، لیکن زہریلے بیج کے اثرات 24 گھنٹے بعد ظاہر ہونا شروع ہوئے۔
آنابیہ کی حالت بگڑنے پر اسے فوری طور پر پشاور منتقل کیا گیا، جہاں وہ جانبر نہ ہوسکی۔ دوسری جانب معافارا کو مردان میڈیکل کمپلیکس لے جایا گیا، تاہم ڈاکٹروں کی کوششیں بھی اس ننھی جان کو زندگی کی طرف واپس نہ لا سکیں۔
علاقہ غم میں ڈوب گیا
ایک ہی خاندان کے دو معصوم پھولوں کا یوں اچانک مرجھا جانا ہر دل کو رلا گیا۔ علاقے میں سوگ کی کیفیت ہے۔ اہلِ علاقہ اور رشتہ داروں نے بچیوں کے والدین سے گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا۔
نمازِ جنازہ میں علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر دل اس دکھ سے بوجھل تھا جس نے پورے خاندان کو گھیر رکھا ہے۔
بچوں کی حفاظت کے حوالے سے تشویش واقعے نے ایک بار پھر اس ضرورت کو اجاگر کیا ہے کہ والدین اور متعلقہ ادارے بچوں کی نگرانی اور ماحول کی حفاظت کے حوالے سے عملی اقدامات کریں۔ دیہی علاقوں میں کھیتوں یا گھروں کے آس پاس پڑے زہریلے بیج، کیمیکلز یا زرعی ادویات اکثر بچوں کی سہوی رسائی میں ہوتے ہیں، جو نہایت خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ واقعے کی تحقیقات کرے اور معلوم کرے کہ یہ زہریلے بیج کہاں سے آئے اور کھلے عام بچوں کی پہنچ تک کیوں موجود تھے۔ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ آئندہ کوئی اور خاندان ایسے ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار نہ ہو۔

Views: 132

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں