سرد رات، جلتا سوال: مچنی چونگی پر ٹریفک کے بیچ کانپتی معصوم بچی، انتظامیہ غائب!
کتاب کے بجائے بھیک، تحفظ کے بجائے اندھیرا: پشاور کی سڑک پر ایک بچی اور ریاست کی خاموشی
پشاور( طاہر وسیم روزنامہ پیغامات پشاور)
پشاور کے مچنی چونگی چوک پر شدید سردی کی اس رات ایک ایسا منظر دکھائی دیا جو کسی بھی حساس دل کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی تھا۔ ٹریفک کے بیچ، تیز رفتار گاڑیوں کے شور اور ہیڈلائٹس کی چکاچوند میں ایک نہایت کم عمر بچی کھڑی تھی۔ اس کے ہاتھ سردی سے کانپ رہے تھے، قدم ننگے یا آدھے پھٹے جوتوں میں تھے، اور جسم پر ایسا کوئی لباس نہ تھا جو یخ بستہ ہوا سے اسے بچا سکتا۔ اندھیرا، سرد رات، اور خطرناک سڑک… اور ان سب کے بیچ ایک معصوم زندگی بھیک مانگنے پر مجبور تھی۔
یہ محض ایک بچی کا مسئلہ نہیں، یہ ایک پورے نظام کی ناکامی کی تصویر ہے۔ یہ مان لینا مشکل ہے کہ وہ بچی اکیلی تھی۔ عموماً ایسے مناظر کے پیچھے کوئی نہ کوئی بالغ فرد موجود ہوتا ہے جو ذرا فاصلے پر کھڑا ہو کر اس معصوم کے ننھے ہاتھوں سے جمع ہونے والے سکوں کا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔ یہ وہ خاموش مجرم ہیں جو غربت، مجبوری یا لالچ کی آڑ میں بچوں کو سڑکوں پر اتار دیتے ہیں اور خود اندھیرے میں چھپ جاتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ یہ بچی بھیک کیوں مانگ رہی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ریاستی ادارے کہاں ہیں؟ چائلڈ پروٹیکشن یونٹ، سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ، ضلعی انتظامیہ اور پولیس—سب کی ذمہ داری کہاں گئی؟ کیا یہ ادارے صرف فائلوں اور اجلاسوں تک محدود ہیں؟ کیا بچوں کے حقوق صرف نعروں اور قوانین میں زندہ ہیں، عملی زندگی میں نہیں؟
یہ بچی اس وقت اسکول میں ہونی چاہیے تھی۔ اس کے ہاتھ میں کاپی اور کتاب ہونی چاہیے تھی، اس کے ذہن میں خواب اور آنکھوں میں مستقبل کی چمک ہونی چاہیے تھی۔ مگر بدقسمتی سے وہ سڑک کنارے زندگی کی بھیک مانگ رہی ہے، جہاں ہر گزرتی گاڑی اس کے لیے خطرہ ہے اور ہر سرد جھونکا اس کی صحت کے لیے عذاب۔
اگر آج ہم خاموش رہے، اگر اس منظر کو صرف ایک تصویر یا ایک لمحاتی خبر سمجھ کر نظرانداز کر دیا، تو کل یہ سردی صرف موسم کی نہیں ہوگی۔ یہ سردی ہمارے معاشرے کی بےحسی کی ہوگی، جہاں معصوم بچے سڑکوں پر اور ہم گرم کمروں میں ضمیر کی نیند سوتے رہیں گے۔
خدارا! اس بچی کو صرف ایک تصویر، ایک پوسٹ یا ایک وقتی جذباتی لمحہ نہ سمجھیں۔ یہ ایک ذمہ داری ہے—ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری۔ شہری ہونے کے ناطے، والدین ہونے کے ناطے، اور سب سے بڑھ کر انسان ہونے کے ناطے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ متعلقہ ادارے فوری طور پر حرکت میں آئیں، ایسے بچوں کو تحفظ، تعلیم اور بحالی فراہم کریں، اور ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کریں جو معصوم جانوں کو بھیک کے کاروبار میں استعمال کر رہے ہیں۔ ورنہ تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔