اسلام اباد ( رپورٹ فیصل افریدی )
پشاور میں 140 سے زائد مبینہ قبضہ گروپوں اور جرائم پیشہ عناصر کی فہرست سوشل میڈیا پر منظرِ عام پر آنے کے بعد سیاسی، انتظامی اور بااثر حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق فہرست سامنے آنے کے بعد کئی نامور افراد خاموشی اختیار کر گئے جبکہ بعض نے خفیہ طور پر اپنے نام فہرست سے نکلوانے کی کوششیں بھی شروع کر دی ہیں۔
انتہائی معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فہرست نئی نہیں بلکہ 2012 یا 2014 کے دوران اسپیشل برانچ پشاور نے خفیہ اداروں کے تعاون سے مرتب کی تھی۔ فہرست میں ان گروپوں اور افراد کے نام شامل ہیں جن پر الزام ہے کہ انہوں نے پشاور کے مختلف علاقوں میں قیمتی سرکاری و نجی اراضی پر قبضے کر کے غیر قانونی سوسائٹیاں، کالونیاں اور بڑے پلازے تعمیر کیے۔
ذرائع کے مطابق اس وقت کے دوران گلبہار،دل ازاک روڈ رنگ روڈ، بائی پاس روڈ، موٹروے سروس روڈ اور اندرون شہر کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر قبضے کیے گئے، جبکہ بعض اعلیٰ سیاسی شخصیات کی مبینہ سرپرستی بھی ان گروپوں کو حاصل رہی۔ یہ گینگ مبینہ طور پر سیاسی اثر و رسوخ کے بدلے باقاعدہ مالی فوائد فراہم کرتے رہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر میں آج بھی متعدد غیر قانونی سوسائٹیاں اور پلازے موجود ہیں، جن میں سے کئی بغیر این او سی تعمیر کیے گئے۔ ان کے خلاف پشاور کے مختلف تھانوں میں شکایات اور ریکارڈ بھی موجود ہیں، تاہم کارروائی نہ ہونے کے برابر رہی۔
یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ بعض قبضہ گروپوں نے خود کو محفوظ بنانے کے لیے پولیس اور انتظامیہ سے روابط استوار کیے، بعد ازاں سیاست میں داخل ہو کر سماجی اور مذہبی شناخت اختیار کر لی۔ تاہم شہر کے باسی بخوبی جانتے ہیں کہ یہ افراد ماضی میں کیا کردار ادا کرتے رہے۔
کچھ سیاسی جماعتوں سے وابستہ افراد نے اس فہرست کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے، تاہم پولیس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ فہرست شواہد پر مبنی ہے اور متعلقہ اداروں کے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔
ذرائع نے مطالبہ کیا ہے کہ نیب اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو فوری طور پر پشاور میں قائم غیر قانونی سوسائٹیوں، کالونیوں اور پلازوں کی جامع تحقیقات کرنی چاہئیں، یہ جانچ پڑتال ہونی چاہیے کہ یہ منصوبے کس دور میں بنے اور کن افراد نے قبضے کیے۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ حال ہی میں تعینات ہونے والے ایک سینئر پولیس افسر نے مؤثر کارروائیاں کر کے قبضہ مافیا کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا ہے، تاہم مستقل اور غیر جانبدار احتساب ہی اس ناسور کا مکمل خاتمہ کر سکتا ہے۔ذرا یہ بھی بتاتے ہیں شہر پشاور میں بعض دو نمبر پراپرٹی ڈیلر شریف شہریوں کو لٹ چکے ہیں اور ان کے گھر وغیرہ تین تین بندوں پر فروخت کیے یہ بھی وہ ناسور ہیں کہ صرف اپنی کمیشن کے لیے شہریوں کو لٹ رہے ہیں سی سی پی او پشاور کو چاہیے ایسے سہولت کاروں کے خلاف بھی کاروائی کرنے کی ضرورت ہے