جرمن یونیورسٹی کے محققین نے ایک گائے پر ایک تجربہ کیا تاکہ یہ معلوم کیا جائے کہ ذبح کے دوران (اسلامی طریقے کے مطابق) جانور کو کتنی تکلیف ہوتی ہے۔
اس مقصد کے لیے انہوں نے EEG (الیکٹرو اینسفالوگرافی) کے ذریعے گائے کے دماغی سگنلز کو مانیٹر کیا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ جانور کو درد محسوس ہوتا ہے یا نہیں، اور اگر ہوتا ہے تو کس حد تک۔
تجربے کے لیے گائے کو تیار کیا گیا اور پھر اسے ذبح کیا گیا۔
ذبح کے بعد پہلے تین سیکنڈ تک دماغی برقی سرگرمی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، جس سے ظاہر ہوا کہ گائے کو اس دوران کوئی درد محسوس نہیں ہوا۔
اگلے تین سیکنڈ میں یہ دیکھا گیا کہ گائے بے ہوش ہوگئی اور شدید خون کے بہاؤ اور دماغ کو خون کی فراہمی بند ہونے کی وجہ سے گہری نیند (کوما جیسی حالت) میں چلی گئی۔
چھ سیکنڈ بعد EEG نے ظاہر کیا کہ دماغ کی برقی سرگرمی مکمل طور پر رک چکی تھی، یعنی گائے کی موت واقع ہو چکی تھی اور اسے کسی قسم کا درد محسوس نہیں ہوا۔
تجربے کا نتیجہ کیا نکلا؟
ہم سب ذبح کے وقت جانور کے خون کے بہنے کو دیکھتے ہیں اور اکثر یہ سوچتے ہیں کہ جانور کو تکلیف کیوں محسوس نہیں ہوتی، حالانکہ وہ تڑپتا ہوا نظر آتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلامی طریقہ ذبح میں سانس کی نالی، خوراک کی نالی اور خون کی بڑی رگیں کاٹی جاتی ہیں جبکہ ریڑھ کی ہڈی کو نہیں کاٹا جاتا۔
اس مرحلے پر دماغ کو خون اور آکسیجن کی فراہمی منقطع ہوجاتی ہے، جس کے باعث جانور چند ہی سیکنڈز میں بے ہوش ہوجاتا ہے۔
سبحان اللہ!
اللہ اکبر
جانور کا جسم درد محسوس کیے بغیر زندگی کی آخری حد تک قائم رہتا ہے۔ دماغ میں موجود پچوٹری گلینڈ ریڑھ کی ہڈی کے ذریعے ایڈرینل گلینڈز کو پیغام بھیجتا ہے، جس کے نتیجے میں ایڈرینالین خارج ہوتی ہے۔ یہ ہارمون دماغ تک خون پہنچانے کی کوشش کرتا ہے لیکن دماغ وہ پہلا عضو ہوتا ہے جسے خون کی فراہمی منقطع ہوجاتی ہے اور تمام غیر ارادی افعال رک جاتے ہیں۔
اس عمل کے نتیجے میں جسم کا تقریباً سارا خون خارج ہو جاتا ہے، جس سے جسم صاف ہوجاتا ہے۔ اگر یہ خون جسم میں رہ جائے تو مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔
یوں اسلامی طریقہ ذبح تیز، سب سے بہترین رحم دل عمل اور کم تکلیف دہ طریقہ ثابت ہوا۔
اگر آپ مسلمان ہیں تو ایک مرتبہ اللہ اکبر ضرور کہیں
اور یہ پوسٹ کسی ایک مسلمان کو ضرور بھیجیں۔
“سبحان اللہ العظیم”