مسجدِ نبویؐ کے جلیل القدر مؤذن، شیخ فیصل نعمان کرگئےمسجدِ نبویؐ کے جلیل القدر مؤذن، شیخ فیصل نعمان کے انتقال کی خبر نے نہ صرف مدینہ منورہ بلکہ پوری امتِ مسلمہ کو غمزدہ کر دیا ہے۔ وہ ایک ایسی آواز تھے جو برسوں تک روضۂ رسول ﷺ کے صحن میں گونجتی رہی اور جس نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں ایمان، سکون اور روحانیت کی کیفیت پیدا کی۔مرحوم شیخ فیصل نعمان کی نمازِ جنازہ مسجد نبویؐ میں ادا کی گئی، جس میں علما کرام، دینی طلبہ، مسجد نبویؐ کے خدام، مقامی شہریوں اور دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے زائرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جنازے کے بعد انہیں اسلامی تاریخ کے مقدس اور عظیم قبرستان جنت البقیع (بقیع الغرقد) میں سپردِ خاک کیا گیا۔ اس موقع پر مسجد نبویؐ اور اطراف کا ماحول سوگوار رہا، فضا میں خاموشی اور رقت طاری تھی اور بہت سے افراد کی آنکھیں اشکبار نظر آئیں۔شیخ فیصل نعمان کو 1422 ہجری (2001 عیسوی) میں مسجد نبویؐ کا مؤذن مقرر کیا گیا۔ اس کے بعد تقریباً پچیس برس تک، یعنی 1447 ہجری تک، وہ مسلسل اس عظیم اور مقدس ذمہ داری کو نہایت اخلاص، عاجزی اور وقار کے ساتھ ادا کرتے رہے۔ اذان جیسے عظیم فریضے کو ادا کرنا محض ایک منصب نہیں بلکہ ایک امانت ہے، اور شیخ فیصل نعمان نے اپنی پوری زندگی اس امانت کی حفاظت میں گزار دی۔مرحوم کا تعلق ایک ایسے معزز اور باوقار خاندان سے تھا جس کی خدمات نسل در نسل مسجد نبویؐ سے وابستہ رہی ہیں۔ ان کے خاندان کے کئی افراد نے بھی اذان اور مسجد کی خدمت کا شرف حاصل کیا، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شیخ فیصل نعمان کے لیے اذان محض پیشہ نہیں بلکہ خاندانی وراثت اور روحانی مشن تھا۔ان کی خوش الحان، پُرسوز اور متوازن آواز مسجد نبویؐ میں موجود نمازیوں کے دلوں میں خشوع و خضوع پیدا کر دیتی تھی۔ آج کے جدید دور میں، جب مسجد نبویؐ کی اذان دنیا بھر میں براہِ راست نشر ہوتی ہے، شیخ فیصل نعمان کی آواز کروڑوں مسلمانوں کے لیے دن کے آغاز، نماز کے وقت اور روحانی وابستگی کی علامت بن چکی تھی۔ بہت سے مسلمان ان کی اذان کو سن کر اپنے گھروں، دفاتر اور مساجد میں نماز کے لیے تیار ہوتے تھے۔علما کرام اور دینی حلقوں کا کہنا ہے کہ شیخ فیصل نعمان کی وفات عالمِ اسلام کے لیے ایک بڑا روحانی نقصان ہے، کیونکہ ایسے افراد کم ہی پیدا ہوتے ہیں جنہیں براہِ راست روضۂ رسول ﷺ سے اذان بلند کرنے کا شرف حاصل ہو۔ ان کی سادگی، انکساری، خوش اخلاقی اور خدمتِ حرمین سے وابستگی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔امتِ مسلمہ کی جانب سے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی جا رہی ہے اور اس بات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ شیخ فیصل نعمان کی اذان، ان کی خدمات اور ان کی یادیں ہمیشہ عقیدت اور احترام کے ساتھ دلوں میں زندہ رہیں گی۔ بلاشبہ انہوں نے اپنی زندگی کا بہترین حصہ اللہ کے گھر اور رسولِ اکرم ﷺ کی مسجد کی خدمت میں گزار کر ایک ایسی مثال قائم کی جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔
165