202

بلوچستان میں کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو جسٹس آف پیس کے اختیارات دے دئیے گئے

بلوچستان میں کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو جسٹس آف پیس کے اختیارات دے دئیے گئے۔

کوئٹہ حکومتِ بلوچستان نے صوبے بھر میں انتظامی افسران کو عدالتی اختیارات تفویض کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
محکمہ داخلہ (جوڈیشل سیکشن) کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق تمام ڈویژنل کمشنرز، ایڈیشنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کو ان کی متعلقہ حدود میں جسٹس آف پیس مقرر کر دیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تقرریاں ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 22 کے تحت عمل میں لائی گئی ہیں اور ان کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔
مقرر کردہ جسٹس آف پیس کو دفعہ 22-A اور 22-B کے تحت تمام اختیارات حاصل ہوں گے جن کے ذریعے وہ عوامی شکایات، پولیس سے متعلق معاملات اور دیگر قانونی امور نمٹا سکیں گے۔

ذرائع کے مطابق حکومت کا یہ اقدام عوام کو فوری انصاف کی فراہمی اور پولیس کے اختیارات کو قانون کے دائرے میں رکھنے کے لیے کیا گیا ہے، تاکہ شہریوں کو غیر ضروری عدالتی پیچیدگیوں سے بچایا جا سکے۔
اعلامیے میں یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ جسٹس آف پیس اپنے فرائض قانون کے مطابق انجام دیں گے اور وہ کسی بھی سرکاری یا نجی گاڑی پر جسٹس آف پیس کا لوگو استعمال نہیں کر سکیں گے۔ اس اقدام کا مقصد اختیارات کے ناجائز استعمال کو روکنا بتایا گیا ہے،
ذرائع کے مطابق انتظامی افسران کو عدالتی اختیارات دینے سے ضلعی سطح پر فوری فیصلوں میں تیزی آئے گی اور عوامی شکایات کے ازالے میں بہتری متوقع ہے۔

نوٹیفکیشن پر گورنر بلوچستان کے احکامات کی روشنی میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ نے دستخط کیے ہیں جبکہ اس کی نقول متعلقہ محکموں، اعلیٰ عدلیہ اور پولیس حکام کو ارسال کر دی گئی ہیں۔

Views: 202

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں