99

باحفاظت گھر پہنچنے والے صراف ظاہر شاہ، اندر شہر کی کابینہ کے ارکان کے ہمراہ پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کر رہے ہیں

باحفاظت گھر پہنچنے والے صراف ظاہر شاہ، اندر شہر کی کابینہ کے ارکان کے ہمراہ پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کر رہے ہیں

باحفاظت گھر پہنچنے والے صراف نے کئی انکشافات کر ڈالے

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے افغانستان سے سمگل شدہ 160 کلو چاندی مجھ سے برامد کی تھی

160 کلو چاندی افغانستان کے حاجی حبیب نے بلوچستان سمگل کی تھی جو حاجی داؤد سکنہ قلعہ عبداللہ نے کوئٹہ سے پشاور میرے گھر پہنچائی۔ ظاہر شاہ

ضبط کی گئی چاندی میرے گھر میں امانت کے طور پر رکھی گئی تھی اور مجھے علم نہیں تھا کہ یہ سمگلنگ کی ہے۔ ظاہر شاہ

اسمگل شدہ چاندی کو ملک کے پاکستان کی ملکیت قرار دیتا ہوں میں اس کا دعوی دار نہیں ہوں گا۔ ظاہر شاہ

حاجی داؤد نے مجھے اعتماد میں دھوکہ دیا جس پر میں نادم اور شرمندہ ہوں۔ ظاہر شاہ

نہ میں 160 کلو چاندی کا دعوی دار ہوں اور نہ یہ چاندی میری ہے یہ اب حکومت پاکستان کی ملکیت ہے۔ ظاہر شاہ کی پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس

پشاور ۔ گزشتہ شب بحفاظت گھر پہنچنے والے صراف ظاہر شاہ ولد مکمل شاہ نے اپنے فرزند اویس شاہ اور صرافہ اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن اندر شہر پشاور کے صدر حاجی اورنگزیب جنرل سیکرٹری احسن علی کہ ہمراہ ہفتہ کے روز پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں 12 جنوری کو قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے ساتھ تحقیقات کے لیے لے گئے تھے اور ان کے گھر سے 160 کلو چاندی بھی برامد ہوئی تھی۔ گھر پہنچنے والے اندر شہر پشاور کے صراف ظاہر شاہ نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جو چاندی ضبط کی ہے 160 کلو وہ افغانستان سے کوئیٹہ سمگل ہوئی تھی اور وہ چاندی حاجی حبیب سکنہ افغانستان کی تھی جو بلوچستان کے راستے افغانستان سے سمگل ہو کر پاکستان پہنچی ۔ انہوں نے کہا کہ اسمگل شدہ 160 کلو چاندی کو حاجی داؤد سکنہ قلعہ عبداللہ نے کوئٹہ سے پشاور میرے گھر پہنچایا تھا اور کہا تھا کہ یہ امانت ہے اپنے پاس رکھ لیں لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ چاندی اسمگلنگ کی ہے اور افغانستان سے ائی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے تو اعتماد کیا تھا لیکن بعد میں جب مجھے تحقیقاتی اداروں نے اپنی تحویل میں لیا اور تمام ثبوت میرے سامنے رکھے تو مجھے معلوم ہوا کہ میرے پاس 160 کلو چاندی جو امانت کے طور پر پڑی ہے وہ اسمگلنگ کی ہے اور یہ افغانستان سے سمگل ہو کر بلوچستان کے تھرو پشاور پہنچی ہے انہوں نے مزید کہا کہ میں اپنی غلطی پر نادم اور شرمندہ ہوں اور میں اس اسمگل چاندی کو ملک کے پاکستان کی ملکیت قرار دیتا ہوں اور نہ میں چاندی کا دعوی دار ہوں اور نہ میں دعویداری کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ میں تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے سدھرنے کا موقع فراہم کیا اور میری اصلاح کی۔ اخر میں گھر پہنچنے والے صراف ظاہر شاہ اور ان کے فرزند اویس شاہ نے صرافہ کمیونٹی کا شکریہ ادا کیا کہ جنہوں نے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا۔

Views: 99

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں