تحریر عظمت خان داؤدزئی
پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔
گزشتہ کچھ عرصے سے عالمی سطح پر یہ شور سنائی دے رہا تھا کہ پاکستان مبینہ طور پر خفیہ طور پر زیرِ زمین ایٹمی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ قیاس آرائیاں، الزامات اور خدشات میڈیا اور دفاعی حلقوں میں گردش کر رہے تھے، مگر پاکستان نے روایتی بیانات یا لفظی وضاحتوں کے بجائے عملی اور خاموش جواب دینے کا فیصلہ کیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب پاکستان نے سمندر کی گہرائیوں سے بابر-3 میزائل کا کامیاب تجربہ کر کے نہ صرف ان خدشات کو بے معنی ثابت کیا بلکہ جنوبی ایشیا میں جنگ اور دفاع کے پورے تصور کو یکسر تبدیل کر دیا۔
بابر-3 کوئی عام میزائل نہیں بلکہ پاکستان کی اسٹریٹیجک سوچ، دفاعی خودمختاری اور دور اندیش پالیسی کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ یہ ایسا ہتھیار ہے جس کی اصل طاقت دھماکے میں نہیں بلکہ اس کی خاموش موجودگی میں پوشیدہ ہے۔ اس کا خوف حملے میں نہیں بلکہ اس یقینی جواب میں ہے جو کسی بھی جارحیت کے بعد دشمن کو مل سکتا ہے۔
بابر-3 کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ زمین یا فضا سے نہیں بلکہ سمندر کی تہہ میں موجود آبدوز سے فائر کیا جاتا ہے۔ یہی وہ عنصر ہے جو اسے دشمن کی نظروں، ریڈار سسٹمز اور سیٹلائٹس سے تقریباً اوجھل کر دیتا ہے۔ دشمن نہ یہ جان سکتا ہے کہ آبدوز کہاں موجود ہے، نہ یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ حملہ کب اور کس سمت سے ہوگا۔ یہی غیر یقینی کیفیت کسی بھی ممکنہ جارح کے لیے سب سے بڑا خوف بن جاتی ہے۔
دفاعی ماہرین اس امر پر متفق ہیں کہ آبدوز سے داغے جانے والے نیوکلیئر میزائل کسی بھی ریاست کی سب سے محفوظ اور قابلِ اعتماد جوابی طاقت ہوتے ہیں۔ زمینی لانچ پیڈز اور فضائی اڈے دشمن کے نشانے پر آ سکتے ہیں، مگر سمندر کی وسعتوں میں چھپی آبدوز کو مکمل طور پر تلاش کرنا، نشانہ بنانا یا ختم کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بابر-3 پاکستان کو وہ صلاحیت فراہم کرتا ہے جسے جدید دفاعی اصطلاح میں “Second Strike Capability” کہا جاتا ہے۔
تقریباً 450 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت، کم بلندی پر پرواز، ریڈار سے بچنے کی جدید تکنیک اور نیوکلیئر وارہیڈ لے جانے کی قوت بابر-3 کو ایک مکمل اور مؤثر دفاعی ہتھیار بناتی ہے۔ تاہم اس کی اصل طاقت ان تکنیکی خصوصیات سے کہیں بڑھ کر اس حقیقت میں ہے کہ دشمن کبھی یہ یقین نہیں کر سکتا کہ پاکستان کی جوابی صلاحیت کو ختم کیا جا چکا ہے۔
اگر کوئی یہ خام خیالی پالے کہ پہلے حملے کے ذریعے پاکستان کو مفلوج کیا جا سکتا ہے، تو بابر-3 اس سوچ کو جڑ سے دفن کر دیتا ہے۔ یہی وہ ناقابلِ تردید حقیقت ہے جو دشمن کو کسی بھی مہم جوئی سے پہلے سو بار سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہی ڈیٹرنس ہے، اور یہی کسی ریاست کی اصل طاقت۔
سادہ اور واضح الفاظ میں، بابر-3 جنگ شروع کرنے کا ہتھیار نہیں بلکہ جنگ روکنے کا اعلان ہے۔ یہ ایک خاموش مگر دوٹوک پیغام ہے کہ جنگ شاید چھیڑی جا سکتی ہے، مگر اس کا انجام دشمن کے اختیار میں نہیں ہوگا۔
133